آسٹریلیا نے بھی مغربی یوروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا

امریکہ کے بعد اب آسٹریلیا نے بھی مغربی یوروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے

آسٹریلین وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا ہم نے مغربی یورشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے مگر سفارتخانہ منتقل کرنے کے تنازع پر کوئی فیصلہ تاحال نہیں کیا جائے گا جب تک وہاں امن و امان قائم نہیں ہوپاتا

آسٹریلیا کے وزیراعظم نے سڈنی میں اپنی تقریر کے دوران بتایا کہ اب آسٹریلیا مغربی یوروشلم  جہاں کئی سرکاری ادارے ہیں اسرائیل کا کیپیٹل تسلیم کرتا ہے اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی یوروشلم کو اپنا حصہ  مانتے ہیں اور مسلم اکثریت ممالک بھی اسرائیل کے ناجائز قبضے کو قبول نہیں کرتے بہت سے ممالک ابھی تک اپنے سفارتخانے وہاں منتقل کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کے عمل کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے

حالیہ برس میں امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو منتقل کر دیا تھا اور اب آسٹریلین وزیراعظم نے بھی اعادہ کیا ہے کہ جب کبھی ممکن ہوا تو وہ بھی اپنا سفارتخانہ مغربی یوروشلم منتقل کر دے گا موریسن کا مزید کہنا تھا جب تک اس کا کوئی حل نہیں نکل آتا ہم اپنا سفارتخانہ شہر کے مغربی ایسے ہی میں رکھیں گے اور اس کے لیے دوقومی نظریے کے حل کا پابند ہے اور مستقبل میں فلسطینی ریاست اور عوامی امنگوں کا احترام بھی کرتا ہے اور ان کے خیال میں مشرقی یوروشلم اس ریاست کا دارالحکومت ہوسکتا ہے آسٹریلیا کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور اسرائیل کی جانب جھکاؤ سے اس کے پڑوسی اسلامی ممالک انڈونیشیا اور ملائیشیا نے بھی اعتراض کیا آسٹریلیا کے حالیہ فیصلے سے پڑوسی ملکوں کے درمیان کئی برسوں سے جاری اشتراکی  تجارتی معاہدے تعطل کا شکار ہیں

676 total views, 2 views today

Please follow and like us:
error0

Leave a Reply

Your email address will not be published.